- Alkhidmat Foundation Pakistan
- May 14, 2026
- Updated about
قربانی اسلام کا وہ عظیم الشان عمل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یاد ہے اور ہر صاحبِ نصاب بالغ مسلمان پر 10، 11 یا 12 ذی الحجہ کو واجب ہے۔ یہ نہ صرف اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے بلکہ غریب خاندانوں تک گوشت پہنچانے کا ذریعہ بھی ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان گزشتہ 35 سال سے زائد عرصے سے ملک بھر اور بیرونِ ملک بے کس و بے سہارا خاندانوں تک قربانی کا گوشت پہنچانے کا اہتمام کر رہی ہے۔ 2025 میں الخدمت نے 10,491 گائے کے حصوں سمیت ہزاروں قربانیاں ادا کیں اور پاکستان، فلسطین اور کشمیر کے 12 سے زائد علاقوں میں مستحقین تک گوشت پہنچایا۔ اس بلاگ میں ہم قربانی سے متعلق ان تمام سوالات کے جوابات دے رہے ہیں جو ہمارے پاکستانی بھائی بہن اکثر گوگل پر تلاش کرتے ہیں — تاکہ آپ کی قربانی شریعت کے مطابق، شعور کے ساتھ اور صحیح جگہ پہنچے۔
اسلام کا فلسفۂ قربانی
قرآن حکیم کے مطابق عیدالاضحی کے ایام میں حق اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے کسی حلال جانور کو ذبح کرنا قربانی فی سبیل اللہ اور شعار اسلام کہلاتا ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ:
قربانی کے دن انسان کا کوئی ایسا عمل نہیں، جو اللہ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ ہو، اور قیامت کے دن وہ ذبح کیا ہوا جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور زبان کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے، لہٰذا تم اس کی وجہ سے (قربانی کرکے) اپنے دلوں کو خوش کرو۔
(مشکوٰۃ شریف ص 128، باب الاضحی)
قربانی کا عمل صرف ایک دینی فریضہ نہیں، بلکہ تقویٰ، اطاعت، ایثار اور معاشرتی ہم آہنگی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس عظیم عمل کا یہی پیغام ہے کہ مسلمان رضائے الٰہی کے لیے ہر ممکن قربانی دینے پر تیار رہیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ان لوگوں کے ساتھ بانٹیں جو ان سے محروم ہیں یہی وجہ ہے کہ قربانی کے موقع پر صاحب نصاب اور بہت سے غیر صاحب نصاب مسلمان بھی براہیم علیہ السلام کی عظیم الشان سنت اور پیارے نبی محمد ﷺ کی اطاعت اور رضا سے اپنی حلال آمدن سے جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں اور اس کڑے معاشرے کے پریشان حال اور مستحق افراد کی خوشیاں بڑھانے کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں۔
قربانی کن لوگوں پر واجب ہے؟ — پانچ شرائط
قربانی ہر اُس بالغ، عاقل، مقیم مسلمان مرد یا عورت پر واجب ہے جس کے پاس عیدالاضحیٰ کے دنوں میں نصاب کے برابر مال موجود ہو (یعنی اتنا مال جو زکوٰۃ کے نصاب کے برابر ہو)۔
احناف کے نزدیک قربانی واجب ہے، اور وہ اس وقت لازم ہو جاتی ہے جب درج ذیل پانچ شرائط ایک ساتھ پائی جائیں:
-
مسلمان ہونا — قربانی صرف مسلمان پر ہے۔
-
بالغ ہونا — نابالغ بچوں پر قربانی واجب نہیں۔
-
عاقل ہونا — یعنی شرعی طور پر عقل و فہم رکھنے والا۔
-
مقیم ہونا — شرعی مسافر (تقریباً 78 کلومیٹر یا 48 میل سے زائد سفر پر) پر قربانی واجب نہیں۔
-
صاحبِ نصاب ہونا — قربانی کے دنوں میں اتنا مال (سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت) ہونا کہ زکوٰۃ کا نصاب پورا ہو جائے۔
کیا قربانی فی خاندان ایک ہوتی ہے یا فی فرد؟
قربانی فی فرد ہے، فی خاندان نہیں۔ گھر کے جتنے بالغ افراد صاحبِ نصاب ہوں، ہر ایک پر اپنی الگ قربانی واجب ہے۔
بہت سے پاکستانی گھرانوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ "گھر سے ایک قربانی کافی ہے"۔ یہ ہمارا رواج ہے، شریعت نہیں۔ اگر گھر میں چار بالغ افراد ہیں اور چاروں صاحبِ نصاب ہیں تو چاروں پر علیحدہ علیحدہ قربانی واجب ہے۔ یہ چار قربانیاں چار بکرے، چار گائے کے حصے، یا ایک گائے میں چار حصے کسی بھی صورت میں ادا کی جا سکتی ہیں۔
میاں بیوی کی قربانی کے احکام
میاں اور بیوی شریعت کی نظر میں دو الگ افراد ہیں، اس لیے ان دونوں پر قربانی الگ الگ ادا کرنا واجب ہے، بشرطیکہ دونوں الگ سے صاحبِ نصاب ہوں۔
-
اگر دونوں صاحبِ نصاب ہیں → دونوں پر علیحدہ قربانی واجب ہے۔
-
اگر صرف شوہر صاحبِ نصاب ہے → صرف اس پر قربانی واجب ہے۔
-
اگر صرف بیوی صاحبِ نصاب ہے (مثلاً اس کے زیورات، مہر، یا وراثت کی وجہ سے) → اُس پر قربانی واجب ہے، چاہے شوہر صاحبِ نصاب نہ ہو۔
-
بیوی کے زیورات اُس کے اپنے نصاب میں شمار ہوتے ہیں، شوہر کے نہیں۔
-
شوہر اپنی بیوی کی قربانی بطورِ تحفہ ادا کر سکتا ہے، لیکن یہ نفل ہوگا — اصل ذمہ داری بیوی کی اپنی ہے۔
-
بہت سی پاکستانی بیویاں اس لیے قربانی نہیں کرتیں کہ اُن کا خیال ہوتا ہے "شوہر کی قربانی کافی ہے"۔ احناف کے نزدیک یہ درست نہیں اگر بیوی صاحبِ نصاب ہے تو قربانی اس کا اپنا فریضہ ہے۔
قربانی سے پہلے بال اور ناخن کاٹنے کا حکم
اگر آپ قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں تو ذی الحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر اپنی قربانی ذبح ہونے تک بال، ناخن اور جسم کے غیر ضروری بال نہ کاٹنا سنت ہے۔
اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب ذی الحجہ کے دس دن شروع ہو جائیں اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے" (صحیح مسلم: 1977)۔
-
یہ حکم صرف قربانی دینے والے شخص کے لیے ہے — اہلِ خانہ یا جن کی طرف سے قربانی دی جا رہی ہو، اُن پر یہ پابندی نہیں۔
-
احناف کے نزدیک یہ مستحب (پسندیدہ) ہے، جبکہ شافعی اور حنبلی مذہب میں مکروہ (ناپسندیدہ) سمجھا جاتا ہے۔
-
اگر بھول کر کاٹ لیا جائے تو کوئی کفارہ نہیں — صرف اس کے بعد سے دوبارہ احتیاط کریں۔
-
جونہی قربانی کا جانور ذبح ہو جائے، یہ پابندی ختم ہو جاتی ہے۔
قربانی کے جانور، اُن کی عمر اور حصے
شریعت میں قربانی کے لیے درج ذیل جانور جائز ہیں، اور ہر جانور کی ایک متعین عمر اور حصے کی تعداد ہے:
|
کم از کم عمر |
حصے |
جانور |
|
1 ہجری سال (دنبہ 6 ماہ بھی جائز ہے) |
ایک پوری قربانی |
بکرا / دنبہ / بھیڑ |
|
2 ہجری سال |
7 حصے |
گائے / بھینس |
|
5 ہجری سال |
7 حصے |
اونٹ |
|
اندھے، لنگڑے، بے حد لاغر یا کان/دم زیادہ کٹا ہوا |
ناجائز |
نقص والے جانور |
گائے میں کتنے حصے ہوتے ہیں؟
گائے، بھینس اور اونٹ میں سات (7) قربانی کے حصے ہوتے ہیں۔ ہر حصہ ایک مکمل قربانی شمار ہوتا ہے۔ بکرا، دنبہ اور بھیڑ مکمل ایک قربانی ہیں — اِن میں شراکت نہیں ہو سکتی۔
گائے یا اونٹ میں شراکت کی شرائط
-
ساتوں شریک قربانی کی نیت کریں — اگر کوئی ایک گوشت کی نیت سے شامل ہوا تو سب کی قربانی ناجائز ہو جائے گی۔
-
ذبح سے پہلے ہر شخص اپنا حصہ ادا کر چکا ہو۔
-
ذبح کے بعد گوشت وزن کے حساب سے برابر تقسیم کیا جائے۔
والدین یا فوت شدہ رشتے داروں کی طرف سے قربانی
والدین یا کسی بھی فوت شدہ مسلمان کی طرف سے قربانی کرنا جائز اور باعثِ اجر ہے۔ یہ نفل قربانی ہے اور ایصالِ ثواب کا بہترین ذریعہ ہے۔
-
یہ قربانی آپ کی اپنی واجب قربانی کے علاوہ ہے — پہلے اپنی واجب قربانی ادا کریں، پھر والدین کی طرف سے۔
-
اگر مرحوم نے وصیت میں قربانی لکھی ہو تو پورا گوشت صدقہ کرنا واجب ہے، خاندان میں نہیں رکھ سکتے۔
-
اگر وصیت نہ ہو تو گوشت کی تقسیم آپ کی مرضی پر ہے — تہائی خاندان، تہائی رشتے دار، تہائی مستحقین۔
-
ذبح سے پہلے نیت کرلیں: "اے اللہ! یہ قربانی میرے والد/والدہ مرحوم/مرحومہ کی طرف سے قبول فرما۔"
الخدمت میں آپ اپنے مرحوم والدین، بہن بھائی، یا کسی بھی پیارے کے نام پر قربانی کر سکتے ہیں — رسید پر اُن کا نام درج ہوگا اور ایصالِ ثواب کی نیت سے گوشت تقسیم کیا جائے گا۔
قربانی کا گوشت کیسے تقسیم کریں؟
سنت یہ ہے کہ قربانی کا گوشت تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے:
-
ایک تہائی اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے
-
ایک تہائی رشتے داروں اور دوستوں کے لیے
-
ایک تہائی غرباء، مسکین اور ضرورت مندوں کے لیے
اگر گھرانہ غریب ہو یا ضرورت مند رشتے دار زیادہ ہوں تو پورا گوشت ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ الخدمت کے ذریعے کی گئی قربانی میں 100 فیصد گوشت سفید پوش اور مستحق خاندانوں تک پہنچایا جاتا ہے، جن میں سے بہت سے سال بھر گوشت نہیں دیکھ پاتے۔
قربانی 2026 کے ریٹس — پاکستان اور فلسطین
پاکستان
|
تفصیل |
عطیہ |
جانور |
|
ایک پوری قربانی |
PKR 60,000 |
بکرا / دنبہ |
|
1 از 7 حصے |
PKR 25,000 |
گائے فی حصہ |
|
ایک پوری گائے |
PKR 175,000 |
مکمل گائے |
فلسطین (مصر اور لبنان میں مہاجرین)
|
تفصیل |
عطیہ |
جانور |
|
ایک پوری قربانی |
PKR 112,000 |
بکرا / دنبہ |
|
1 از 7 حصے |
PKR 70,000 |
گائے فی حصہ |
|
ایک پوری گائے |
PKR 490,000 |
مکمل گائے |
فلسطین (ویسٹ بینک — رہائش پذیر)
|
تفصیل |
عطیہ |
جانور |
|
ایک پوری قربانی |
PKR 280,000 |
بکرا / دنبہ |
الخدمت کے ساتھ قربانی کیوں؟
الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیموں میں سے ایک ہے جو 1990 سے قربانی، طبی امداد، تعلیم، یتیم پروری، اور ہنگامی امدادی پروگراموں میں مصروف ہے۔ 2025 میں الخدمت نے:
-
2 کروڑ 46 لاکھ سے زائد مستفیدین تک امداد پہنچائی
-
کل 26 ارب 41 کروڑ روپے کا فلاحی کام مکمل کیا
-
10,491 گائے کے حصوں سمیت ہزاروں قربانیاں ادا کیں
-
پاکستان کے 12 سے زائد علاقوں (سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر) میں گوشت تقسیم کیا
-
فلسطین کے مہاجرین (مصر، لبنان، اردن، ویسٹ بینک) تک قربانی کا گوشت پہنچایا
الخدمت کی پانچ خصوصیات جو ہمیں دیگر سے ممتاز کرتی ہیں:
-
اپنا کیٹل فارم — جانوروں کا انتظام پہلے سے، عید کے ہفتے میں قیمتیں نہیں بڑھتیں۔
-
شرعی نگرانی — ہر قربانی علماء کرام کی نگرانی میں ذبح کی جاتی ہے۔
-
100 فیصد گوشت ضرورت مندوں تک — انتظامیہ کا کوئی حصہ نہیں۔
-
ہر عطیہ دہندہ کو علاقہ، خاندان کی تعداد اور وزن کی تفصیلی رسید۔
-
35 سال سے زائد قابلِ اعتماد خدمت — صدر، سیکرٹری جنرل اور بورڈ آف ٹرسٹیز کی شفافیت کے ساتھ۔
اپنی قربانی آن لائن کیسے بک کریں ؟
-
ویب سائٹ پر جائیں: alkhidmat.org/qurbani
-
اپنی پسند کا جانور منتخب کریں — بکرا، گائے کا حصہ، یا مکمل گائے۔
-
علاقہ منتخب کریں — پاکستان یا فلسطین۔
-
اپنا یا کسی مرحوم پیارے کا نام درج کریں۔
-
آن لائن ادائیگی کریں (کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، بینک ٹرانسفر، EasyPaisa، JazzCash)۔
-
رسید فوراً ای میل پر، اور تفصیلی اثر رپورٹ عید کے بعد دی جاتی ہے
فلسطین غزہ میں پاکستان سے کیسے قربانی بھیجیں؟
غزہ میں 22 لاکھ سے زائد بھوکے اور مظلوم فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی آزمائش تیرہ سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اکتوبر 2023 سے تاحال فلسطین میں جنگی صورتحال کے سبب فلسطینی خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ غذا، پانی اور طبی سہولیات کی قلت کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ لاکھوں فلسطینی خوراک سے محروم ہیں، اور بچے غذائی قلت کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کا گوشت ان ضرورت مند خاندانوں تک پہنچانا الخدمت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سال، الخدمت فاؤنڈیشن بے گھر اور متاثرہ فلسطینی خاندانوں کو قربانی کا گوشت مہیا کرنے کے لیے عیدالاضحیٰ کے تین دن فلسطین کے لیے خصوصی قربانی کا اہتمام کرے گی، اور گوشت ٹن پیکس میں پیک کر کے غزہ کے فلسطینی بہن بھائیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
آپ کی قربانی صرف ایک جانور کی قربانی نہیں — یہ ایک خاندان کی عید ہے، ایک یتیم کی خوشی ہے، اور سیلاب زدہ، غزہ کے، اور بے گھر بہن بھائیوں کے لیے اللہ کی رحمت کا ایک ذریعہ ہے۔
اپنی قربانی الخدمت کے ذریعے کریں اور اطمینان رکھیں کہ آپ کی نیت، آپ کی شراکت، اور آپ کا مال درست جگہ پہنچ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس عظیم سنت پر قائم رکھے۔ آمین۔
ابھی قربانی 2026 بک کریں — alkhidmat.org/qurbani
Bio. Press Release
show more
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout.
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout.